حدیث نمبر: 4568
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي ⦗٦٨٤⦘ أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَكَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ وَيَقُولُ: " سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ الْهَوَى سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوَى " قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ حَاجَةٌ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، مُرَافَقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: " أَوَغَيْرُ ذَلِكَ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرَافَقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس رات گزارتا تھا اور آپ ﷺ کے وضو اور ضرورت کے لیے پانی لاتا تھا، کیونکہ آپ ﷺ رات کا قیام کرتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ» ”میرا رب پاک ہے اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں“، «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ» ”میرا رب پاک ہے اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں“، بہت دیر تک کہتے رہتے۔ «سُبْحَانَ رَبِّي رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے میرا رب جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے“، «سُبْحَانَ رَبِّي رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے میرا رب جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے“، زیادہ دیر تک کہتے رہتے۔ ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مجھ سے کہا: ”کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مدد کرو اپنے اوپر زیادہ سجدوں کو لازم کرنے کے ساتھ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4568
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ترمذي 3416»