حدیث نمبر: 4567
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قُلْتُ لِثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، فَسَكَتَ عَنِّي، قُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، فَسَكَتَ عَنِّي، قُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةِ السُّوسِيِّ وَحْدَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَزَادَ فِيهِ " عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
معدان بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اللہ مجھے نفع دے۔ وہ خاموش ہو گئے، میں نے دوبارہ پھر کہا: آپ میری رہنمائی فرمائیں ایسے کام کی جانب جس کی وجہ سے اللہ مجھے نفع پہنچائے۔ وہ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے تیسری مرتبہ پھر کہا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اللہ مجھے فائدہ دے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو بندہ اللہ کو ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتے ہیں اور اس کی ایک غلطی ختم کر دیتے ہیں۔“ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے بھی مجھے اسی طرح بیان کیا۔ ایک دوسری روایت میں اوزاعی فرماتے ہیں: اس میں یہ لفظ زائد ہیں کہ ”تم اللہ کے لیے اپنے اوپر سجدوں کو لازم کر لو۔“
حدیث نمبر: 4568
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي ⦗٦٨٤⦘ أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَكَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ وَيَقُولُ: " سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ الْهَوَى سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوَى " قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ حَاجَةٌ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، مُرَافَقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: " أَوَغَيْرُ ذَلِكَ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرَافَقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس رات گزارتا تھا اور آپ ﷺ کے وضو اور ضرورت کے لیے پانی لاتا تھا، کیونکہ آپ ﷺ رات کا قیام کرتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ» ”میرا رب پاک ہے اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں“، «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ» ”میرا رب پاک ہے اس کے لیے تمام تعریفیں ہیں“، بہت دیر تک کہتے رہتے۔ «سُبْحَانَ رَبِّي رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے میرا رب جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے“، «سُبْحَانَ رَبِّي رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے میرا رب جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے“، زیادہ دیر تک کہتے رہتے۔ ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مجھ سے کہا: ”کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مدد کرو اپنے اوپر زیادہ سجدوں کو لازم کرنے کے ساتھ۔“
حدیث نمبر: 4569
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " إِنَّكَ مَا دُمْتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّكَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِكِ، وَمَنْ يُكْثِرْ قَرْعَ بَابِ الْمَلِكِ يُفْتَحْ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تک آپ نماز میں ہیں تو گویا آپ کسی بادشاہ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، اور بادشاہ کے دروازے پر جتنی زیادہ دستک دی جاتی ہے تو دستک دینے والے کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔