السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في الإكثار من الصلاة باب: کثرت سے نماز پڑھنے کی ترغیب کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قُلْتُ لِثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، فَسَكَتَ عَنِّي، قُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، فَسَكَتَ عَنِّي، قُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةِ السُّوسِيِّ وَحْدَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَزَادَ فِيهِ " عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ ".معدان بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اللہ مجھے نفع دے۔ وہ خاموش ہو گئے، میں نے دوبارہ پھر کہا: آپ میری رہنمائی فرمائیں ایسے کام کی جانب جس کی وجہ سے اللہ مجھے نفع پہنچائے۔ وہ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے تیسری مرتبہ پھر کہا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اللہ مجھے فائدہ دے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو بندہ اللہ کو ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتے ہیں اور اس کی ایک غلطی ختم کر دیتے ہیں۔“ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے بھی مجھے اسی طرح بیان کیا۔ ایک دوسری روایت میں اوزاعی فرماتے ہیں: اس میں یہ لفظ زائد ہیں کہ ”تم اللہ کے لیے اپنے اوپر سجدوں کو لازم کر لو۔“