حدیث نمبر: 4569
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " إِنَّكَ مَا دُمْتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّكَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِكِ، وَمَنْ يُكْثِرْ قَرْعَ بَابِ الْمَلِكِ يُفْتَحْ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تک آپ نماز میں ہیں تو گویا آپ کسی بادشاہ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، اور بادشاہ کے دروازے پر جتنی زیادہ دستک دی جاتی ہے تو دستک دینے والے کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4569
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»