السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في طين المطر في الطريق باب: راستے میں بارش کے کیچڑ کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4269
أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْقَعْقَاعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ الْعَلَاءِ، قَالَ هِشَامٌ، وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ ⦗٦٠٩⦘ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَهُوَ مَاشٍ قَالَ: فَحَالَ بَيْنَهُ، وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ حَوْضٌ مِنْ مَاءٍ، وَطِينٍ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ وَسَرَاوِيلَهُ قَالَ: قُلْتُ: هَاتِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَحْمِلُهُ عَنْكَ، قَالَ: لَا، فَخَاضَ، فَلَمَّا جَاوَزَ لَبِسَ سَرَاوِيلَهُ وَنَعْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَلَمْ يَغْسِلْ رِجْلَيْهِ " مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ هُوَ ابْنُ عَمَّارٍ أَبُو غَسَّانَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرُوِّينَا، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَمُجَاهِدٍ، وَجِمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ فِي مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن علا اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے آیا، وہ پیدل چل رہے تھے۔ راستے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مسجد کے درمیان مٹی اور پانی کا ایک حوض آگیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا جوتا اور شلوار اتار دی۔ میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! مجھے دے دیں، میں اس کو اٹھا لوں۔“ فرمایا: ”نہیں!“ جب ہم گزر گئے تو انہوں نے اپنی شلوار اور جوتے پہن لیے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور اپنے پاؤں نہیں دھوئے۔