السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في طين المطر في الطريق باب: راستے میں بارش کے کیچڑ کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4268
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟ " قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: " هَذِهِ بِهَذِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي خَلِيفَةَ.حافظ ثناء اللہ
بنو عبدالأشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے اور مسجد کے درمیان گندہ راستہ ہے، جب بارش ہو تو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد والا راستہ اس سے زیادہ عمدہ نہیں ہے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کے بدل ہے۔“