السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : أينما أدركتك الصلاة فصل فهو مسجد وفي ذلك دلالة على أن أصل الأرض على الطهارة ما لم تعلم نجاسة باب: ”جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت پا لے وہیں نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے“ کے بیان میں، اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین اصل میں پاک ہے جب تک کہ اس پر کسی نجاست کا علم نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4267
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ السِّنْجِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَتَى الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَجِدْ مَا يُصَلِّي عَلَيْهِ وَجَدَ الْأَرْضَ مَسْجِدًا، وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرَيْنِ يَسِيرُ بَيْنَ يَدِيَّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ " وَرُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”چار چیزوں کی وجہ سے مجھے فضیلت دی گئی ہے: زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنائی گئی ہے۔ میری امت کا کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور نماز کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو وہ زمین کو مسجد اور پاکیزہ پائے گا۔ میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ دو مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا ہے۔“