حدیث نمبر: 4109
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا بَكَّارُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: " قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا الْحَيْضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلْبَثُ إِحْدَانَا أَيَّامَ حَيْضَتِهَا، ثُمَّ تَطْهُرُ فَتَنْظُرُ الثَّوْبَ الَّذِي كَانَتْ تَبِيتُ فِيهِ فَإِنْ أَصَابَهُ دَمٌ غَسَلْنَاهُ وَصَلَّيْنَا فِيهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَرَكْنَاهُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا ذَلِكَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ عَلَى أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

بکار بن یحییٰ کی دادی فرماتی ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، ایک قریشی عورت نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جب نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو وہ اپنے حیض کے ایام گزارتی، جب حیض سے پاک ہو جاتی تو اپنے کپڑوں کو دیکھتی، اگر خون لگا ہوتا تو دھو لیا کرتی اور نماز پڑھ لیتی اور اگر خون کپڑوں میں موجود نہ ہوتا تو ہم کو کوئی چیز نماز سے نہ روکتی تھی اور جب ہم غسل کرتیں تو اپنے بالوں کو نہیں کھولتی تھیں، صرف اپنے سر پر تین چلو ڈال لیتی، جب بالوں کی جڑوں میں تری محسوس کرتی تو اس کو مل لیتی، پھر تمام جسم پر پانی بہا لیتی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: ابوداؤد 359
تخریج حدیث «ابوداؤد 359»