السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من صلى وفي ثوبه أو نعله أذى أو خبث لم يعلم به، ثم علم به باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
حدیث نمبر: 4091
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْلَعْ نَعْلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا مَرَّةً، فَخَلَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ؟ " قَالُوا: خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، فَقَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا " لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا الَّذِي كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ مِنَ الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلَاةِ فِي هَذَا، وَفِي الرُّعَافِ، فَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: يَسْتَأْنِفُ وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى الْوُضُوءِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز کی حالت میں جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو خبر دی کہ ان میں گندگی ہے۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما نکسیر اور متلی کی صورت میں پہلی نماز پر ہی بنا کر لیتے اور مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے، وہ اس مسئلے کو وضو پر قیاس کرتے تھے۔