السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من صلى وفي ثوبه أو نعله أذى أو خبث لم يعلم به، ثم علم به باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي رَأَى فِي ثَوْبِهِ دَمًا فَانْصَرَفَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوهُ بِمَاءٍ فَغَسَلَهُ، ثُمَّ أَتَمَّ مَا بَقِيَ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ يُعِدْ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ رَحِمَهُ اللهُ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي مَعْنَى مَا رُوِّينَا، ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ وَقَالَ: أَعَادَ الصَّلَاةَ وَكَانَ عَالِمًا بِمَا كَانَ فِي ثَوْبِهِ أَوْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا كَهَيْئَتِهِ فِي الْوُضُوءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَأَبِي قِلَابَةَ وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ رَغِبَ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ لِاشْتِهَارِهِ بَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَكَذَلِكَ لَمْ يَحْتَجَّ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَمْ يُخْرِجُهُ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِهِ مَعَ احْتِجَاجِهِ بِهِمْ فِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَيُحْتَمَلُ ⦗٥٦٥⦘ أَنْ يَكُونَ رَغِبَ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَ إِعْلَامَ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِيَّاهُ بِذَلِكَ ابْتِدَاءَ شَرْعٍ أَوْ حَمَلَ الْأَذَى الْمَذْكُورَ عَنْهُ عَلَى مَا يُسْتَقْذَرُ مِنَ الطَّهَارَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَمِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الرَّاعِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو حَمْزَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْهُ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَوَاهُ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ تَرَكُوهُ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَعَبَّادٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ.سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے اپنے کپڑوں میں خون دیکھا تو نماز کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف اشارہ کیا، وہ پانی لے کر آئے، انہوں نے کپڑے کو دھویا اور باقی نماز مکمل کی اور نماز کو دوبارہ نہیں لوٹایا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہی ہے؛ کیونکہ انہوں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات سے دلیل لی ہے، لیکن بعد میں رجوع کر لیا، فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا اسے پہلے سے اپنے کپڑوں میں (ناپاکی کا) علم ہو یا نہ ہو، جیسے وضو کا حکم ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی حسن بصری اور ابوقلابہ کا قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس لیے اعراض کیا کہ وہ حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے مشہور ہے اور ان میں سے ہر ایک کی عدالت میں اختلاف ہے، اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان میں سے کسی سے دلیل نہیں لی اور امام مسلم نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا، حالانکہ وہ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں ان سے دلیل لیتے ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اس سے اس لیے اعراض کیا ہو کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کے آپ ﷺ کو اس کی خبر دینے کو ایک نئے حکم کا آغاز سمجھا، یا اس میں مذکور گندگی کو ایسی پاک چیز پر محمول کیا جس سے گھن آتی ہو۔ واللہ اعلم۔ یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی سے نبی ﷺ سے مرسل مروی ہے، اور ابن مسعود، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے موصول بھی مروی ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف ابوحمزہ راعی نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے اور ابوحمزہ قابلِ حجت نہیں، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو صرف فرات بن سائب نے میمون بن مہران سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور فرات بن سائب کو محدثین نے ترک کر دیا ہے؛ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف عباد بن کثیر نے روایت کیا ہے اور عباد قابلِ حجت نہیں، البتہ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے مروی ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔