السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من صلى وفي ثوبه أو نعله أذى أو خبث لم يعلم به، ثم علم به باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
حدیث نمبر: 4089
أنبأ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنَبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي فِي رِدَائِهِ وَفِيهِ دَمٌ فَأَتَاهُ نَافِعٌ فَنَزَعَ عَنْهُ رِدَاءَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ رِدَاءَهُ وَمَضَى فِي صَلَاتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خون آلود چادر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ نافع رحمہ اللہ آئے اور ان سے چادر اتار کر اپنی چادر ان کے اوپر ڈال دی اور وہ نماز میں مصروف رہے۔