حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَّاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ " أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، آپ ﷺ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ ﷺ سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں سے باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“ یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3918
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد 5/447/24163»