السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ الْإِيَادِيُّ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " صَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَهَضَ فَسَبَّحَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَرَكَعَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِفِعْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: " مَا أَمَاطَ، عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ⦗٥٠٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر جلدی سے اٹھ کر جانے لگے تو لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ بولے: انھیں کیا ہو گیا ہے؟ پھر آئے اور ایک رکعت پڑھی، پھر دو سجدے۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فعل کے بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا: انھوں نے نبی ﷺ کی سنت سے تجاوز نہیں کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔