حدیث نمبر: 3919
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِيمَا رُوِّينَا عَنْهُ فِي تَحْرِيمِ الْكَلَامِ: فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَرُجُوعُهُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ كَانَ قَبْلَ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَشَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَقَصَّةُ التَّسْلِيمِ كَانَتْ قَبْلَ الْهِجْرَةِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں جو ہمیں ان سے نماز میں کلام کی ممانعت کے بارے میں پہنچی ہے، فرمایا: ”پس جب ہم سرزمین حبشہ سے واپس آئے۔“
اور ان کی حبشہ سے واپسی نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے ہوئی تھی، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، پس سلام پھیرنے کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ ثَمَانُونَ رَجُلًا وَمَعَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ⦗٥٠٩⦘ طَالِبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُخُولِهِمْ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَبَادَرَ فَشَهِدَ بَدْرًا ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم ۸۰ مرد تھے، ہمارے ساتھ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہونے کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنے میں سبقت لے گئے، وہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3919