السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَزَادَ: فَسَبَّحْنَا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ؟ " فَقُلْنَا بِرُءُوسِنَا سُبْحَانَ اللهِ، أَيْ: لَا وَلَمْ يَذْكُرِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَكْثَرَ مِنْ أَنْ قَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
دوسری سند سے اسی جیسی حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سبحان اللہ کہنے لگے تو انہوں نے ہماری طرف توجہ کی اور فرمایا: ”کیا ہم نے نماز مکمل نہیں کی؟“ ہم نے اپنے سروں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا یعنی مکمل نہیں کی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صرف اتنا ہی ذکر کیا: «مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ» ”انہوں نے اپنے نبی ﷺ کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔“