السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥٠٦⦘ صَلَّى يَوْمًا فَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا: وَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ.سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، ابھی ایک رکعت باقی تھی کہ آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ کو پا لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ ﷺ واپس پلٹے، مسجد میں داخل ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو وہ رکعت پڑھائی۔ میں نے اس بارے میں لوگوں کو بتایا تو انہوں نے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، ہاں اگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان لوں گا۔ ایک دفعہ وہ شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: وہ رہا آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔