حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر اٹھ کر چلے گئے تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر وہ رکعت مکمل کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان سکتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس سے وہ شخص گزرا تو میں نے کہا: یہ رہا وہ آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3914
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»