السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، أنبأ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهِمَا، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ " وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ.(ا) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر (اپنے گھر) چلے گئے۔ ایک شخص ان کی طرف کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے، وہ لمبے ہاتھوں والا تھا، بولا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ غصہ کی حالت میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی (جو رہ گئی تھی) پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں: «ثُمَّ دَخَلَ بِمَنْزِلِهِ» ”پھر وہ (آپ ﷺ) اپنے گھر میں داخل ہو گئے“، باقی اس کے ہم معنی روایت ہے۔