السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3911
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَمَا نَسِيتُ " قَالَ: فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: " أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی تو بھول گئے اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک شخص جسے ذوالیدین کہا جاتا تھا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔