السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير السجود في ترك القنوت باب: اس قول کا بیان جس نے قنوت چھوٹ جانے پر سجدہ (سہو) کو ضروری نہیں سمجھا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَا: " صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ " وَقَدْ رُوِّينَا فِي بَابِ الْقُنُوتِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ أَنَّهُمْ قَنَتُوا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَشْهُورٌ عَنْ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَئِنْ تَرَكُوهُ فِي بَعْضِ الْأَحَايِينِ سَهْوًا أَوْ عَمْدًا دَلَّ ذَلِكَ عَلَى كَوْنِهِ غَيْرَ وَاجِبٍ، وَحِينَ لَمْ يَنْقُلْ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ لِذَلِكَ دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا سُجُودَ فِي السَّهْوِ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.(ا) اسود اور عمرو بن میمون رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، آپ ﷺ نے قنوت نہیں پڑھی۔
(ب) قنوت کے باب میں ہم رسول اللہ ﷺ سے اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ صحیح سند کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے، اگر ان لوگوں نے بعض حالات میں سہواً یا عمداً قنوت چھوڑ بھی دی تو یہ اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے سہو کے سجدے کیے ہوں، لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قنوت کے بھول جانے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم۔