السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير السجود في ترك القنوت باب: اس قول کا بیان جس نے قنوت چھوٹ جانے پر سجدہ (سہو) کو ضروری نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3878
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي عَنِ الْقُنُوتِ فَقَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ فَعَلَهُ قَطُّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے نہیں دیکھا کہ ان میں سے کسی نے کبھی قنوت پڑھی ہو۔