السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من نظر في صلاته إلى ما يلهيه لم يسجد سجدتي السهو باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کسی غافل کرنے والی چیز کی طرف دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ فَطَارَدَ بِشَيْءٍ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ صَدَقَةٌ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ ".عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کبوتر اڑتا ہوا آیا (باغ گھنا ہونے کی وجہ سے) وہ بار بار آ جا رہا تھا اور نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔ انھیں اس بات نے تعجب میں ڈالا۔ کچھ وقت کے لیے ان کی نظر پرندے کے پیچھے لگ گئی، پھر جب واپس نماز کی طرف ان کا دھیان آیا تو انھیں یاد ہی نہ رہا کہ کتنی نماز پڑھی ہے؟ تو کہنے لگے: ”مجھے میرے اس مال (باغ) نے فتنے میں ڈالا ہے“، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے وہ واقعہ جو باغ میں ان کے ساتھ پیش آیا تھا، جس نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا تھا ذکر کیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو صدقہ کرتا ہوں، آپ اس میں جو چاہیں تصرف کریں“۔