کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کسی غافل کرنے والی چیز کی طرف دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3871
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: " شَغَلَتْنِي هَذِهِ الْأَعْلَامُ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِالْأَنْبَجَانِيِّ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: " فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي فِي صَلَاتِي ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہ کناروں والے منقش جبے میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”اس جبے کے نشانوں نے مجھے غافل کیے رکھا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے موٹی چادر لا دو۔“
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے مجھے میری نماز سے غافل کیے رکھا ہے۔“
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے مجھے میری نماز سے غافل کیے رکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 3872
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " رُدُّوا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَكَادَ يَفْتِنُنِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ نَعْلَمْهُ سَجَدَ السَّهْوَ وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى حَائِطٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعْلَمْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْجُدَ لِلسَّهْوِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو شامی چادر تحفے میں دی، جس میں کچھ نشان تھے، آپ ﷺ نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”یہ چادر ابوجہم کو واپس کر دو، میں نے نماز میں اس کے نشانات کی طرف دیکھا قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔
حدیث نمبر: 3873
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ فَطَارَدَ بِشَيْءٍ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ صَدَقَةٌ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کبوتر اڑتا ہوا آیا (باغ گھنا ہونے کی وجہ سے) وہ بار بار آ جا رہا تھا اور نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔ انھیں اس بات نے تعجب میں ڈالا۔ کچھ وقت کے لیے ان کی نظر پرندے کے پیچھے لگ گئی، پھر جب واپس نماز کی طرف ان کا دھیان آیا تو انھیں یاد ہی نہ رہا کہ کتنی نماز پڑھی ہے؟ تو کہنے لگے: ”مجھے میرے اس مال (باغ) نے فتنے میں ڈالا ہے“، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے وہ واقعہ جو باغ میں ان کے ساتھ پیش آیا تھا، جس نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا تھا ذکر کیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو صدقہ کرتا ہوں، آپ اس میں جو چاہیں تصرف کریں“۔