السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من نظر في صلاته إلى ما يلهيه لم يسجد سجدتي السهو باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کسی غافل کرنے والی چیز کی طرف دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3872
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " رُدُّوا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَكَادَ يَفْتِنُنِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ نَعْلَمْهُ سَجَدَ السَّهْوَ وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى حَائِطٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعْلَمْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْجُدَ لِلسَّهْوِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو شامی چادر تحفے میں دی، جس میں کچھ نشان تھے، آپ ﷺ نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”یہ چادر ابوجہم کو واپس کر دو، میں نے نماز میں اس کے نشانات کی طرف دیکھا قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔