وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ ⦗٤٦٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَامَ فِيهِ يَدْعُو، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ " وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ إِنْ صَحَّتَا فَفِيهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَهُ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى مَرَّةً، وَتَرَكَ مَرَّةً إِلَّا أَنَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ نَظَرًا وَمَا ثَبَتَ عَنْ بِلَالٍ وَهُوَ مُثْبَتٌ أَوْلَى مِمَّا ثَبَتَ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ نَافٍ وَمَعَ بِلَالٍ غَيْرُهُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی، پھر نکل گئے۔ پھر دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہی قبلہ ہے۔“ پھر دوسری مرتبہ داخل ہوئے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے، پھر نکل گئے اور نماز نہیں پڑھی۔
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ ﷺ کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر ان دونوں حدیثوں کے ثبوت میں نظر ہے اور جو بات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو (نماز کا) اثبات کرنے والے ہیں، وہ اس سے اولیٰ ہے جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو نفی کرنے والے ہیں، اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے (راوی) بھی ہیں۔