وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ بِشْرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے اور مجھے سرخ و سیاہ سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی تھیں، میرے لیے زمین کو نماز کے لیے پاک جگہ اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا، میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمنوں پر میرا رعب پڑتا ہے اور مجھے شفاعت کاملہ دی گئی۔“