حدیث نمبر: 3791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ اسْتَقْبَلَ الْجَذَعَةَ وَجَعَلَ السَّارِيَةَ الثَّانِيَةَ عَنْ يَمِينِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے پھر باہر نکل آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر جب اگلے دن داخل ہوئے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”جی ہاں، آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، آپ ایک جانب کی جانب متوجہ ہوئے اور دوسرے ستون کو اپنی دائیں طرف رکھا۔“