حدیث نمبر: 3780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى قَالَ: وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ⦗٤٦٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ساتھ بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، میں نے بلال سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے ایک ستون کو اپنی بائیں طرف کیا اور ایک کو اپنی دائیں طرف اور بقیہ تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف کیا پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون تھے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ دو ستون آپ ﷺ کی بائیں جانب تھے۔
(ج) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے، دو جگہوں میں سے ایک میں۔
(د) امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو ستون آپ ﷺ کے دائیں طرف تھے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ دو ستون آپ ﷺ کی بائیں جانب تھے۔
(ج) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے، دو جگہوں میں سے ایک میں۔
(د) امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو ستون آپ ﷺ کے دائیں طرف تھے۔
حدیث نمبر: 3781
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْقَعْنَبِيُّ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا بلال بن رباح، سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم بھی داخل ہوئے۔ انہوں نے دروازہ بند کر دیا اور کچھ دیر آپ ﷺ اس کے اندر رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: جب وہ باہر نکلے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر کیا کام کیا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے ایک ستون کو بائیں طرف رکھا اور دو ستون اپنی دائیں جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کی طرف رکھا اور نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
حدیث نمبر: 3782
وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: " تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کی ہے اور فرمایا کہ آپ ﷺ نے دو ستون اپنی دائیں جانب چھوڑے اور ایک بائیں جانب اور تین ستون آپ ﷺ کی پچھلی طرف تھے، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور آپ ﷺ کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
حدیث نمبر: 3783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ: " ايتِنَا بِمِفْتَاحٍ " فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ، فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَمَكَثَ نَهَارًا طَوِيلًا ثُمَّ خَرَجَ وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ فَسَبَقْتُهُمْ فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا وَرَاءَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ، وَكَانَ الْبَيْتُ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ شَطْرَيْنِ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ مِنَ الشَّطْرِ الْمُقَدَّمِ وَجَعَلَ بَابَ الْبَيْتِ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي يَسْتَقْبِلُكَ حِينَ تَلِجُ وَالْبَيْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى وَعِنْدَ الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَرْمَرَةٌ حَمْرَاءُ " وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی ﷺ قصوا نامی اونٹنی پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا بلال اور عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما بھی تھے حتیٰ کہ سوار کو بیت اللہ کے پاس باندھ دیا گیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”چابی لاؤ۔“ انہوں نے چابی لا کر آپ ﷺ کے لیے دروازہ کھول دیا۔ پھر آپ ﷺ، سیدنا اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم آپ کے ساتھ داخل ہوئے۔ پھر انہوں نے دروازہ بند کر دیا اور دن کا بیشتر حصہ وہاں گزارا۔ پھر آپ ﷺ نکلے تو لوگ داخل ہونے کے لیے جلدی کرنے لگے، میں ان سب سے سبقت لے گیا وہاں میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑے پایا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگلے دو ستونوں کے درمیان اور بیت اللہ کے ان دنوں چھ ستون تھے، دونوں حصوں میں۔ آپ ﷺ نے اگلے نصف حصے میں جو ستون ہیں ان کے درمیان نماز ادا کی اور بیت اللہ کا دروازہ آپ ﷺ کی پیٹھ کی طرف تھا۔ آپ ﷺ نے اپنا رخِ انور اس طرف کیا جس طرف بیت اللہ میں داخل ہونے والا جب داخل ہوتا ہے تو اس کے بالکل سامنے جو جگہ آتی ہے وہاں اپنے اور دیوار کے درمیان نماز ادا کی۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی نماز پڑھی اور آپ ﷺ نے جس جگہ نماز پڑھی تھی وہاں پر سرخ سنگِ مرمر لگا ہوا تھا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی نماز پڑھی اور آپ ﷺ نے جس جگہ نماز پڑھی تھی وہاں پر سرخ سنگِ مرمر لگا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِوسٍ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّمَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، " كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ فَيَمْشِي حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ يُصَلِّي يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي ⦗٤٦٤⦘ أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ مِنْ أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت نافع رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دروازہ اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑ دیا، آپ چلتے گئے حتیٰ کہ ان میں اور سامنے والی دیوار میں تقریباً تین ہاتھ جگہ رہ گئی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس جگہ کی خواہش تھی جس کے بارے میں انھیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا کی ہے۔ بیت اللہ کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، آدمی جس کونے میں چاہے نماز ادا کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 3785
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ قَالُوا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کر دیا، جب انہوں نے دروازہ کھولا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جا ملا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا: جی ہاں پڑھی ہے، دو یمنی ستونوں کے درمیان پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 3786
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفٌ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَيُقَالُ: قَدْ رَوَاهُ أَيْضًا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِيهِ أَنَّهُ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ رَكْعَتَيْنِ وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَفُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَخْبَرَ عَنْ أَقَلِّ مَا يَكُونُ صَلَاةً، وَسَكَتَ عَمَّا زَادَ عَلَيْهِمَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ بِلَالًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سیف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کوئی شخص آیا تو اس سے کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ فرماتے ہیں: میں جب آیا تو رسول اللہ ﷺ جا چکے تھے البتہ مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازے کے پاس کھڑے مل گئے تو میں نے کہا کہ اے بلال! کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کہاں پڑھی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی ہیں، پھر نکل کر دو رکعتیں بیت اللہ کے سامنے پڑھی ہیں۔
(ب) حضرت ابونعیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے کعبہ میں دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ حضرت ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، فلیح بن سلیمان، ابن عون رحمہم اللہ کی روایتیں جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں تمام اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ پوچھنا بھول گئے کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعتیں نماز ادا کیں؟ اس حدیث میں تعداد کی تعیین ہو رہی ہے کہ آپ نے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔
(ج) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ کی نماز کی کم سے کم مقدار بیان کی ہو اور دو رکعتوں سے زیادہ جو آپ نے ادا کی ہیں ان پر سکوت اختیار کیا ہو؛ کیونکہ انھوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں پوچھا تھا۔
(ب) حضرت ابونعیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے کعبہ میں دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ حضرت ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، فلیح بن سلیمان، ابن عون رحمہم اللہ کی روایتیں جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں تمام اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ پوچھنا بھول گئے کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعتیں نماز ادا کیں؟ اس حدیث میں تعداد کی تعیین ہو رہی ہے کہ آپ نے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔
(ج) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ کی نماز کی کم سے کم مقدار بیان کی ہو اور دو رکعتوں سے زیادہ جو آپ نے ادا کی ہیں ان پر سکوت اختیار کیا ہو؛ کیونکہ انھوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں پوچھا تھا۔
حدیث نمبر: 3787
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کی تھیں۔“
حدیث نمبر: 3788
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَاكَ عَنْ ذَلِكَ فَلَا تُطِعْهُ " يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سماک حنفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبۃ اللہ میں نماز ادا کی، عنقریب ایک آدمی آئے گا اور تمہیں اس سے روکے گا، تم نے اس کی بات نہیں ماننی، ان کی مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
حدیث نمبر: 3789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ؟ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قِبَلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، قُلْتُ: مَا نَوَاحِيهَا فِي زَوَايَاهَا قَالَ: فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ كَمَا تَقَدَّمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ قَالَ: صَلَّى، شَاهِدٌ، وَمَنْ قَالَ: لَمْ يُصَلِّ، لَيْسَ بِشَاهِدٍ، فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ بِلَالٍ وَكَانَتْ هَذِهِ الْحُجَّةُ الثَّابِتَةُ عِنْدَنَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا أَيْضًا، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ الْحَجَبِيِّ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ الْحَجَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں صرف خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اس کے اندر داخل ہونے کا؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ داخل ہونے سے تو نہیں روکتے تھے لیکن میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی ﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے چاروں کونوں میں دعا کی اور اس کے اندر نماز نہیں پڑھی اور نکل گئے، پھر باہر جا کر بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہ ہے قبلہ۔“ میں نے کہا: اس کی جوانب کون سی ہیں، کیا اس کے کنارے مراد ہیں؟ انہوں نے بتایا: بیت اللہ کی ہر سمت قبلہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی وہ خود اس کا گواہ ہے اور جو کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے نہیں پڑھی اس نے آپ ﷺ کو پڑھتے نہیں دیکھا اور ہم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول لیں گے اور وہی ہمارے نزدیک حجت ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح کی روایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بھی ہمیں پہنچی ہے۔
اور یہ حضرت شیبہ بن عثمان بن طلحہ اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی وہ خود اس کا گواہ ہے اور جو کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے نہیں پڑھی اس نے آپ ﷺ کو پڑھتے نہیں دیکھا اور ہم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول لیں گے اور وہی ہمارے نزدیک حجت ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح کی روایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بھی ہمیں پہنچی ہے۔
اور یہ حضرت شیبہ بن عثمان بن طلحہ اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3790
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَفِيهِ إِرْسَالٌ بَيْنَ عُرْوَةَ وَعُثْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 3791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ اسْتَقْبَلَ الْجَذَعَةَ وَجَعَلَ السَّارِيَةَ الثَّانِيَةَ عَنْ يَمِينِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے پھر باہر نکل آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر جب اگلے دن داخل ہوئے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”جی ہاں، آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، آپ ایک جانب کی جانب متوجہ ہوئے اور دوسرے ستون کو اپنی دائیں طرف رکھا۔“
حدیث نمبر: 3792
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ ⦗٤٦٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَامَ فِيهِ يَدْعُو، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ " وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ إِنْ صَحَّتَا فَفِيهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَهُ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى مَرَّةً، وَتَرَكَ مَرَّةً إِلَّا أَنَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ نَظَرًا وَمَا ثَبَتَ عَنْ بِلَالٍ وَهُوَ مُثْبَتٌ أَوْلَى مِمَّا ثَبَتَ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ نَافٍ وَمَعَ بِلَالٍ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی، پھر نکل گئے۔ پھر دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہی قبلہ ہے۔“ پھر دوسری مرتبہ داخل ہوئے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے، پھر نکل گئے اور نماز نہیں پڑھی۔
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ ﷺ کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر یہ ان دونوں حدیثوں کو ثابت کرنا بھی محلِ نظر ہے اور جو روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ ثابت ہے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے زیادہ بہتر ہے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت اس کی نفی کرتی ہے۔
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ ﷺ کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر یہ ان دونوں حدیثوں کو ثابت کرنا بھی محلِ نظر ہے اور جو روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ ثابت ہے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے زیادہ بہتر ہے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت اس کی نفی کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 3793
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ بِشْرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے اور مجھے سرخ و سیاہ سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی تھیں، میرے لیے زمین کو نماز کے لیے پاک جگہ اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا، میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمنوں پر میرا رعب پڑتا ہے اور مجھے شفاعت کاملہ دی گئی۔“