السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من وقع في عينيه الماء باب: اس شخص کا بیان جس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا ہو
حدیث نمبر: 3685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ، أَوْ غَيْرَهُ بَعَثَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْأَطِبَّاءِ عَلَى الْبُرُدِ وَقَدْ وَقَعَ الْمَاءُ فِي عَيْنَيْهِ، فَقَالُوا: تُصَلِّي سَبْعَةَ أَيَّامٍ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاكَ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ عَنْ ذَلِكَ فَنَهَتَاهُ " وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْأَجَلُ قَبْلَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوضحی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالملک رحمہ اللہ یا کسی اور نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس طبیبوں کو دھاری دار چادر دے کر بھیجا، ان کی آنکھوں میں پانی اتر چکا تھا، طبیبوں نے کہا: ”آپ کو سات دن تک لیٹ کر نماز ادا کرنا ہوگی۔“ تو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے منع کر دیا۔
(ب) مسیب بن رافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر موت اس سے پہلے ہی آ جائے تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟“