السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من وقع في عينيه الماء باب: اس شخص کا بیان جس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا ہو
حدیث نمبر: 3684
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا سَقَطَ فِي عَيْنَيْهِ الْمَاءُ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تَسْتَلْقِي سَبْعَةَ أَيَّامٍ لَا تُصَلِّي إِلَّا مُسْتَلْقِيًا قَالَ: فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ وَهُوَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب آشوبِ چشم کا مرض لاحق ہوا تو انہیں کہا گیا کہ آپ کو سات دن آرام کرنا ہوگا اور نماز بھی چت لیٹ کر ہی ادا کرنا ہوگی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”جو آدمی قدرت رکھنے کے باوجود نماز نہ پڑھے تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا۔“