حدیث نمبر: 3683
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا وَقَعَ فِي عَيْنَيِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَاءُ أَرَادَ أَنْ يُعَالَجَ مِنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا يَوْمًا لَا تُصَلِّي إِلَّا مُضْطَجِعًا فَكَرِهَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی آنکھوں سے (بیماری کی وجہ سے) پانی نکلنے لگا تو انہوں نے اس کا علاج کروانا چاہا، انہیں کہا گیا کہ آپ کو اتنے دن بطور پرہیز لیٹ کر نماز پڑھنا ہوگی تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 3684
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا سَقَطَ فِي عَيْنَيْهِ الْمَاءُ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تَسْتَلْقِي سَبْعَةَ أَيَّامٍ لَا تُصَلِّي إِلَّا مُسْتَلْقِيًا قَالَ: فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ وَهُوَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب آشوبِ چشم کا مرض لاحق ہوا تو انہیں کہا گیا کہ آپ کو سات دن آرام کرنا ہوگا اور نماز بھی چت لیٹ کر ہی ادا کرنا ہوگی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”جو آدمی قدرت رکھنے کے باوجود نماز نہ پڑھے تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا۔“
حدیث نمبر: 3685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ، أَوْ غَيْرَهُ بَعَثَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْأَطِبَّاءِ عَلَى الْبُرُدِ وَقَدْ وَقَعَ الْمَاءُ فِي عَيْنَيْهِ، فَقَالُوا: تُصَلِّي سَبْعَةَ أَيَّامٍ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاكَ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ عَنْ ذَلِكَ فَنَهَتَاهُ " وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْأَجَلُ قَبْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوضحی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالملک رحمہ اللہ یا کسی اور نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس طبیبوں کو دھاری دار چادر دے کر بھیجا، ان کی آنکھوں میں پانی اتر چکا تھا، طبیبوں نے کہا: ”آپ کو سات دن تک لیٹ کر نماز ادا کرنا ہوگی۔“ تو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے منع کر دیا۔
(ب) مسیب بن رافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر موت اس سے پہلے ہی آ جائے تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟“
(ب) مسیب بن رافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر موت اس سے پہلے ہی آ جائے تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟“