حدیث نمبر: 3686
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ " فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ثُمَّ قَامَ قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے سورۃ البقرہ شروع کی تو میں نے (دل میں) کہا: آپ ﷺ اس کو ایک رکعت میں پڑھیں گے۔ پھر آپ ﷺ پڑھتے چلے گئے۔ میں نے کہا: اس میں رکوع کریں گے، پھر آپ ﷺ نے سورۃ النساء شروع کردی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر سورۃ آل عمران شروع کی، آپ ﷺ آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں تسبیح ہو تو ”سبحان اللہ“ کہتے اور جب کسی سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت آتی تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب عظمت والا“ پڑھتے رہے، آپ ﷺ کا رکوع بھی آپ کے قیام کے برابر تھا۔ پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف سن لی جس نے اس کی حمد کی“ پڑھا، پھر جتنی دیر رکوع کیا تھا اس کے قریب قریب قومہ کیا، پھر سجدہ کیا تو یہ پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے“ اور آپ ﷺ کے سجدے بھی تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 772»