السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من وقع في عينيه الماء باب: اس شخص کا بیان جس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا ہو
حدیث نمبر: 3683
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا وَقَعَ فِي عَيْنَيِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَاءُ أَرَادَ أَنْ يُعَالَجَ مِنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا يَوْمًا لَا تُصَلِّي إِلَّا مُضْطَجِعًا فَكَرِهَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی آنکھوں سے (بیماری کی وجہ سے) پانی نکلنے لگا تو انہوں نے اس کا علاج کروانا چاہا، انہیں کہا گیا کہ آپ کو اتنے دن بطور پرہیز لیٹ کر نماز پڑھنا ہوگی تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔