السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قام فيما أطاق وقعد فيما عجز عنه باب: اس شخص کا بیان جس نے طاقت کے بقدر قیام کیا اور جس سے عاجز رہا اس میں بیٹھ گیا
حدیث نمبر: 3682
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " ⦗٤٣٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور اسی حالت میں قراءت کرتے رہے، جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے اور حالت قیام میں ان کی تلاوت کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔