السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في كيفية الصلاة على الجنب أو الاستلقاء وفيه نظر باب: پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے، اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ⦗٤٣٧⦘ ثنا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ: " يُصَلِّي الْمَرِيضُ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ، تَلِي قَدَمَاهُ الْقِبْلَةَ " وَهَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ عَجَزَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى جَنْبِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ مریض اپنی گدی پر چت لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ رخ ہوں۔ یہ روایت موقوف ہے۔
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔