السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما يقول بعد الفراغ من الوضوء باب: وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا پڑھے، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْحِمْصِيُّ، قَاضِي أَنْدَلُسَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: وَحَدَّثَهُ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَحَانَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدِيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةَ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے ذمہ اونٹ چرانا تھا، ایک بار میری باری آگئی، میں نے اس کو کھانے کے لیے چھوڑ دیا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہوئے پایا، آپ ﷺ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، میں نے آپ ﷺ سے یہ بات سیکھی کہ ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کرتا ہے اور اپنے چہرے اور دل کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہوجاتی ہے۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: یہ کیا خوب ہے۔
میرے سامنے بھی ایک شخص کہہ رہا تھا کہ آپ ﷺ نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ بات کہی تھی۔
میں نے دیکھا، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: میں نے تم کو ابھی آتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“