السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يكون منهما نافلة باب: ان دونوں میں سے کون سی نماز نفل ہو گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 3643
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا أَلْأَفَضْلُ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ثُمَّ ائْتِهِمْ فَإِنْ كَانُوا قَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِلَّا صَلَّيْتَ مَعَهُمْ فَكَانَتْ نَافِلَةً " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو وقت پر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ خبردار! تم نماز کو اپنے وقت پر ہی پڑھو۔ پھر ان کے پاس آؤ۔ اگر وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو پھر تم اپنی نماز پہلے ہی پڑھ چکے ہو اور اگر انھوں نے نہیں پڑھی تو ان کے ساتھ پڑھ لیا کرو وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“