السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ ". وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ إِنَّمَا هُوَ فِي وُضُوءٍ مُتَطَوَّعٍ بِهِ لَا فِي وُضُوءٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ مِنْ حَدَثٍ يُوجِبُ الْوُضُوءَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ وَنَعْلَيْهِ، كَمَا رَوَاهُ عَنْهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ مُقَيَّدًا بِالْجَوْرَبَيْنِ، ⦗١٢٣⦘ وَأَرَادَ بِهِ جَوْرَبَيْنِ مُنَعَّلَيْنِ فَثَابِتٌ عَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ وَالْوَعِيدُ عَلَى تَرْكِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: پاک آدمی کے لیے رسول اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جوتوں پر مسح کے متعلق جو روایت منقول ہے وہ نفلی وضو کے متعلق ہے، نہ کہ اس فرض وضو کے متعلق جو وضو توڑنے والی چیز کی وجہ سے واجب ہوتا ہے، یا ان کی مراد جوتوں میں پاؤں دھونا ہے، یا ان کی مراد جرابوں اور جوتوں پر مسح کرنا ہے، جیسا کہ بعض رواۃ نے اسے جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کیا ہے، اور جرابوں سے مراد ایسی جرابیں ہیں جن کے نیچے چمڑا لگا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔