السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على أن الكعبين هما الناتيان في جانبي القدم باب: اس دلیل کا بیان کہ ٹخنے وہ ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو قدم کے دونوں جانب ہوتی ہیں
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صِفَةِ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ لِكُلِّ رِجْلٍ كَعْبَيْنِ.سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ گزر چکا ہے کہ: ”پھر آپ ﷺ نے اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا۔“
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر پاؤں کے دو ٹخنے ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِيرٍ، يَقُولُ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا، وَاللهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ كَعْبَهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَمَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِهِ ".ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ رخِ انور کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور تین مرتبہ فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کرو، اللہ کی قسم! ضرور تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔“ راوی کہتا ہے: میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ اپنی ایڑی کو اپنے ساتھی کی ایڑی کے ساتھ چمٹائے ہوئے تھا اور اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے کندھے کو اس کے کندھے کے ساتھ۔