کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 329
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا الْنَضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {وَامْسَحُوا بِرُءُوُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ} قَالَ: " عَادَ الْأَمْرُ إِلَى الْغَسْلِ"..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پڑھا کرتے تھے: ﴿وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] اور فرماتے پاؤں کا حکم دھونے کی طرف لوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 330
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى قُرَيْشٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے (یعنی «أَرْجُلَكُمْ» )۔
حدیث نمبر: 331
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: ٦] قَالَ: " رَجَعَ الْأَمْرُ إِلَى الْغَسْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ [سورة المائدة: 6] پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ پاؤں دھونے کا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَى الْغَسْلِ "، وَقَرَأَ {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: ٦] بِنَصْبِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے (یعنی پاؤں کو دھونے کا حکم ہے) اور آپ نے ﴿وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ [سورة المائدة: 6] نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
حدیث نمبر: 333
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَى الْغَسْلِ " وَقَرَأَ {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] بِنَصْبِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹ آیا ہے اور آپ نے ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
حدیث نمبر: 334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا: {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] نَصْبًا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 335
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ يَزِيدَ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ كَانَ يَنْصِبُهَا {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] " قَالَ: وَأَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] نَصْبًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 336
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَارِئِ هَذِهِ الْقِرَاءَةَ غَيْرَ مَرَّةٍ " فَذَكَرَ فِيهَا {بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ} مَفْتُوحَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن میناء قالون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع بن عبد الرحمن بن ابونعیم قاری سے یہ قراءت کئی مرتبہ پڑھی، انہوں نے بھی ﴿بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] منصوب پڑھا ہے۔
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ حَسَّانَ الثَّوْرِيُّ أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدٍ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، وَكَانَ عَالِمًا بِوُجُوهِ الْقِرَاءَاتِ، وَذَكَرَ فِيهَا: " {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] مُنْتَصِبَ اللَّامِ ". وَبَلَغَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا نَصْبًا، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ، وَعَنْ عَاصِمٍ بِرِوَايَةِ حَفْصٍ، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ مِنْ رِوَايَةِ الْأَعْشَى، وَعَنِ الْكِسَائِيِّ كُلُّ هَؤُلَاءِ نَصَبُوهَا، وَمَنْ خَفَضَهَا فَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُجَاوَرَةِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانُوا يَقْرَءُونَهَا بِالْخَفْضِ، وَكَانُوا يَغْسِلُونَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ولید بن حسان ثوری نے ابو محمد یعقوب بن اسحاق بن یزید حضرمی پر قرآن پڑھا اور وہ قرآن کی قراءتوں کے عالم تھے، انہوں نے بھی ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] کو منصوب پڑھا ہے۔
(ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
(د) اعمش فرماتے ہیں: وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔
(ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
(د) اعمش فرماتے ہیں: وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 338
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ ⦗١١٧⦘ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: " اغْسِلُوا الْقَدْمَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أُمِرْتُمْ ". وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ: " ثُمَّ يَغْسِلُ قَدْمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى " وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَ بِغَسْلِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قدموں کو ٹخنوں تک اس طرح دھوؤ جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے۔
(ب) سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔
(ب) سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ، فَاغْسِلُوا ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَعَرَاقِيبَهُمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ أَقْرَبُ إِلَى جَنَّتِكُمْ. فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللهُ، وَكَذَبَ الْحَجَّاجُ فَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. قَالَ: قَرَأَهَا جَرًّا، فَإِنْمَا أَنْكَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْقِرَاءَةَ دُونَ الْغَسْلِ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى وُجُوبِ الْغَسْلِ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے)۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا: وہ «أَرْجُلِكُمْ» کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا: وہ «أَرْجُلِكُمْ» کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 340
أنبأ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ أَرْسَلَهُ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ لِيَسْأَلَهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ قَالَتْ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ تَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِي الْكِتَابِ إِلَّا غَسْلَتَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ. فَهَذَا إِنْ صَحَّ فَيُحْتَمَلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ بِالْخَفْضِ، وَأَنَّهَا تَقْتَضِي الْمَسْحَ، ثُمَّ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَعَّدَ عَلَى تَرْكِ غَسْلِهِمَا أَوْ تَرْكِ شَيْءٍ مِنْهُمَا ذَهَبَ إِلَى وُجُوبِ غَسْلِهِمَا، وَقَرَأَهَا نَصْبًا. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَهَا نَصْبًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کے (طریقے کے) بارے میں پوچھیں، انہوں نے نبی ﷺ کے وضو کے طریقے کے بارے میں حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں کو دھویا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، میں نے انہیں حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں صرف کتاب (قرآن) میں دو دفعہ دھونے اور دو بار مسح کو پاتا ہوں۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَذَكَرَ ⦗١١٨⦘ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ اغْتَرَفَ غَرْفَةً أُخْرَى فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ، وَالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَسَحَ بِأَسْفَلِ النَّعْلَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار کہتے ہیں: ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو بتلاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ پھر لمبی حدیث ذکر کی، فرماتے ہیں: پھر آپ نے دوسرا چلو بھرا تو اپنے پاؤں پر چھڑکا اور اس میں جوتی تھی اور بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا اور جوتیوں کے نیچے مسح کیا۔
حدیث نمبر: 342
وَالَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَاسْتَنْشَقَ وَمَضْمَضَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَصَبَّ عَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى قَدْمَيْهِ وَهُوَ مُتَنَعِّلٌ ". فَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ. وَقَدْ خَالَفَهُمَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ کلی کی، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھوں پر دو مرتبہ پانی ڈالا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے قدموں پر چھینٹے دیے اور آپ ﷺ جوتی پہنے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 343
أَمَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، أنا الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي يَتَوَضَّأُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا۔۔۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا، پھر اپنے بائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، پھر فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) ابوسلمہ خزاعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: ”میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) ابوسلمہ خزاعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: ”میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 344
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عَجْلَانَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدٌ الْحَافِظُ، نا أَبُو اللَّيْثِ نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْفَرَائِضِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: " ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ہے، فرماتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے ایک چلو لیا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر چلو لیا اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
حدیث نمبر: 345
فَأَمَّا حَدِيثُ وَرْقَاءَ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا وَرْقَاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَضْمَضَ مَرَّةً، وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَقَدْ ذَكَرْنَا الرِّوَايَاتِ فِي مَا مَضَى إِلَّا رِوَايَةَ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهِيَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، ایک مرتبہ اپنے بازوؤں کو دھویا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: یہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ہے۔
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ⦗١١٩⦘ ثنا عِيسَى بْنُ مِينَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَأَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى. فَهَذِهِ الرِّوَايَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَهُمَا، وَحَدِيثُ الدَّرَاوَرْدِيِّ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُوَافِقًا بِأَنْ يَكُونَ غَسَلَهُمَا فِي النَّعْلِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا، فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ مَا يُخَالِفُ فِيهِ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتَ، كَيْفَ وَهُمْ عَدَدٌ وَهُوَ وَاحِدٌ؟ وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر ”آپ ﷺ نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔“
(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ دراوردی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ ﷺ نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔
(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں، کیونکہ وہ پوری جماعت ہے اور یہ اکیلا ہے۔
(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ دراوردی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ ﷺ نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔
(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں، کیونکہ وہ پوری جماعت ہے اور یہ اکیلا ہے۔
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنِي الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ " قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ ذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ مِنْ فَوْقِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ، ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ". هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا إِلَى مَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو (وہ طریقہ) بیان کروں جس طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے؟“ پھر آپ رضی اللہ عنہما نے پانی کا برتن منگوایا، پھر آپ ﷺ کے وضو کا طریقہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے اور پاؤں میں جوتا تھا، پھر پاؤں کے اوپر اور نیچے مسح کیا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل کیا۔
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ السِّرَاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَا أُرِيكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " فَتَوَضَّأَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَعَلَيْهِ نَعْلُهُ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي النَّعْلَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا اور پاؤں میں جوتیاں تھیں۔
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ رُوِيَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ قَدْمَيْهِ " وَرُوِيَ " أَنَّهُ رَشَّ ⦗١٢٠⦘ ظُهُورَهُمَا " وَأَحَدُ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ وَجْهٍ صَالِحِ الْإِسْنَادِ، وَلَوْ كَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ، وَالَّذِي خَالَفَهُ أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْآخَرُ فَلَيْسَ مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لَوِ انْفَرَدَ. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا عَنَى بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ زَيْدٍ، وَعَنِيَ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى ظُهُورِ الْقَدْمَيْنِ، وَقَدْ بَيَّنَا أَنَّهُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَهْرَ الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي بَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِّ بِعِلَلِهِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ فِي مَعْنَى الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ ﷺ نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے“۔
(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، اگرچہ اس میں تفرد ہے، یعنی جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث اہل علم کے ہاں ثابت نہیں، اگرچہ یہ بھی منفرد ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔
(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، اگرچہ اس میں تفرد ہے، یعنی جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث اہل علم کے ہاں ثابت نہیں، اگرچہ یہ بھی منفرد ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيَّ بَيْتِي، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَا بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرَيْبَهُ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ بَالَ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ جَمِيعًا فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ. قَالَ: ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَبَلَّهَا بِهِ، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: " وَفِي النَّعْلَيْنِ ". قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: " وَفِي النَّعْلَيْنِ ". قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: " وَفِي النَّعْلَيْنِ " وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا هَذَا الْحَدِيثُ، فَكَأَنَّهُ رَأَى الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ أَصَحَّ، يَعْنِي حَدِيثَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ الشَّيْخُ: إِنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ غَسَلَهُمَا فِي النَّعْلَيْنِ، فَقَدْ رُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنْينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، ہم ایک پیالہ لے کر آئے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی تھا، وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا اور فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا میں آپ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرح کا وضو نہ کروں؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“ راوی کہتا ہے: آپ رضی اللہ عنہ کے لیے برتن رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، کلی کی اور اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر کلی کی اور اپنے ہاتھوں سے پانی لے کر اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے انگوٹھوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ راوی کہتا ہے: پھر اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ پھر پانی کی ایک ہتھیلی اپنے دائیں ہاتھ سے لی تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو بھی ایسے ہی دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر پانی کی دو ہتھیلیاں لیں تو ان کو اپنے قدموں پر ڈالا اور جو جوتا پاؤں میں تھا تو اس کو تر کیا۔ پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی کیا۔ میں نے کہا: ”جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”ہاں، جوتیوں میں۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: ”کیا جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”جوتیوں میں۔“ میں نے کہا: ”جوتیوں میں؟“ فرمایا: ”جوتیوں میں۔“
حدیث نمبر: 351
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، ایک پانی والا برتن لایا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر فرمایا: ”یہ ہے رسول اللہ ﷺ کا وضو۔“
حدیث نمبر: 352
وَمِنْهَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُرِّيِّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاقَ الْمَاءَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْفَقِيهِ قَوْلُهُ: " حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ " وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک برتن میں پانی ڈالا، پھر پوچھا: سائل کہاں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا تھا؟ پھر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا اور قریب تھا کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 353
وَمِنْهَا مَا أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَشَرِبَهُ، وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ. وَثَبَتَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ مَسَحَ، وَأَخْبَرَ أَنَّهُ وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دھویا اور انہیں صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور اسے کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: مجھے پسند ہے کہ آپ کو دکھاؤں کہ آپ ﷺ کا وضو کیسا تھا۔
حدیث نمبر: 354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ⦗١٢٢⦘ أنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ، نا شُعْبَةُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً وَاحِدَةً، فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ "، وَقَالَ: " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ. وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الثَّابِتِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الرِّجْلَيْنِ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا عُنِيَ بِهِ وَهُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ مُحْدِثٍ، إِلَّا أَنْ بَعْضَ الرُّوَاةِ كَأَنَّهُ اخْتَصَرَ الْحَدِيثَ، فَلَمْ يَنْقُلْ قَوْلَهُ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی ضروریات کے لیے کوفہ کی ایک گلی میں بیٹھے، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، پھر پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے تو اس سے ایک چلو لیا اور اس کے ساتھ اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس طرح کیا ہے اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہیں ہوتا۔“
(ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی ﷺ کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کر لے، گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا: «هٰذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ» ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہیں ہوا۔“
(ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی ﷺ کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کر لے، گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا: «هٰذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ» ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہیں ہوا۔“
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا أَبِي، نا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ " قَالَ: فَأَخَذَ وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُحْدِثْ ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر فرمایا: ”کہاں ہیں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں؟“
راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بے وضو نہ ہو۔“
راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بے وضو نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 356
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ ". وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ إِنَّمَا هُوَ فِي وُضُوءٍ مُتَطَوَّعٍ بِهِ لَا فِي وُضُوءٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ مِنْ حَدَثٍ يُوجِبُ الْوُضُوءَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ وَنَعْلَيْهِ، كَمَا رَوَاهُ عَنْهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ مُقَيَّدًا بِالْجَوْرَبَيْنِ، ⦗١٢٣⦘ وَأَرَادَ بِهِ جَوْرَبَيْنِ مُنَعَّلَيْنِ فَثَابِتٌ عَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ وَالْوَعِيدُ عَلَى تَرْكِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: اسی طرح پاک آدمی کے لیے وضو ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول جوتوں پر مسح کے متعلق روایت نفلی وضو کے متعلق ہے نہ کہ فرض وضو سے متعلق اور پاؤں جوتوں میں دھونے سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے جسے بعض رواۃ جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور جوربین سے مراد چمڑے والی ہیں اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول جوتوں پر مسح کے متعلق روایت نفلی وضو کے متعلق ہے نہ کہ فرض وضو سے متعلق اور پاؤں جوتوں میں دھونے سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے جسے بعض رواۃ جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور جوربین سے مراد چمڑے والی ہیں اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔