السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا أَبِي، نا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ " قَالَ: فَأَخَذَ وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُحْدِثْ ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر فرمایا: ”کہاں ہیں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں؟“
راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بے وضو نہ ہو۔“