السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ⦗١٢٢⦘ أنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ، نا شُعْبَةُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً وَاحِدَةً، فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ "، وَقَالَ: " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ. وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الثَّابِتِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الرِّجْلَيْنِ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا عُنِيَ بِهِ وَهُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ مُحْدِثٍ، إِلَّا أَنْ بَعْضَ الرُّوَاةِ كَأَنَّهُ اخْتَصَرَ الْحَدِيثَ، فَلَمْ يَنْقُلْ قَوْلَهُ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی ضروریات کے لیے کوفہ کی ایک گلی میں بیٹھے، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، پھر پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے تو اس سے ایک چلو لیا اور اس کے ساتھ اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس طرح کیا ہے اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہیں ہوتا۔“
(ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی ﷺ کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کر لے، گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا: «هٰذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ» ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہیں ہوا۔“