السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ السِّرَاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَا أُرِيكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " فَتَوَضَّأَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَعَلَيْهِ نَعْلُهُ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي النَّعْلَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا اور پاؤں میں جوتیاں تھیں۔