السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنِي الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ " قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ ذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ مِنْ فَوْقِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ، ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ". هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا إِلَى مَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو (وہ طریقہ) بیان کروں جس طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے؟“ پھر آپ رضی اللہ عنہما نے پانی کا برتن منگوایا، پھر آپ ﷺ کے وضو کا طریقہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے اور پاؤں میں جوتا تھا، پھر پاؤں کے اوپر اور نیچے مسح کیا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل کیا۔