السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ رُوِيَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ قَدْمَيْهِ " وَرُوِيَ " أَنَّهُ رَشَّ ⦗١٢٠⦘ ظُهُورَهُمَا " وَأَحَدُ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ وَجْهٍ صَالِحِ الْإِسْنَادِ، وَلَوْ كَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ، وَالَّذِي خَالَفَهُ أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْآخَرُ فَلَيْسَ مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لَوِ انْفَرَدَ. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا عَنَى بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ زَيْدٍ، وَعَنِيَ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى ظُهُورِ الْقَدْمَيْنِ، وَقَدْ بَيَّنَا أَنَّهُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَهْرَ الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي بَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِّ بِعِلَلِهِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ فِي مَعْنَى الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ ﷺ نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے“۔
(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، اگرچہ اس میں تفرد ہے، یعنی جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث اہل علم کے ہاں ثابت نہیں، اگرچہ یہ بھی منفرد ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔