السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ رُوِيَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ قَدْمَيْهِ " وَرُوِيَ " أَنَّهُ رَشَّ ⦗١٢٠⦘ ظُهُورَهُمَا " وَأَحَدُ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ وَجْهٍ صَالِحِ الْإِسْنَادِ، وَلَوْ كَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ، وَالَّذِي خَالَفَهُ أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْآخَرُ فَلَيْسَ مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لَوِ انْفَرَدَ. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا عَنَى بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ زَيْدٍ، وَعَنِيَ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمَسْحِ عَلَى ظُهُورِ الْقَدْمَيْنِ، وَقَدْ بَيَّنَا أَنَّهُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَهْرَ الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي بَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِّ بِعِلَلِهِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ فِي مَعْنَى الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ ﷺ نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے“۔
(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صالح سند کے ساتھ ہے، اگر یہ اکیلی ہوتی تو ثابت ہوتی، لیکن جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور زیادہ ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث ان میں سے نہیں جنہیں اہل علم حدیث ثابت مانتے ہیں، خواہ یہ اکیلی ہی ہوتی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید رحمہ اللہ سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد موزوں کا اوپر والا حصہ ہے اور یہ موزوں پر مسح کے باب میں اپنی علتوں کے ساتھ مذکور ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند سے پہلی حدیث کے معنی میں بھی روایت کی گئی ہے۔