السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ⦗١١٩⦘ ثنا عِيسَى بْنُ مِينَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَأَخَذَ حَفْنَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى. فَهَذِهِ الرِّوَايَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَى أَنَّهُ غَسَلَهُمَا، وَحَدِيثُ الدَّرَاوَرْدِيِّ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُوَافِقًا بِأَنْ يَكُونَ غَسَلَهُمَا فِي النَّعْلِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا، فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ مَا يُخَالِفُ فِيهِ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتَ، كَيْفَ وَهُمْ عَدَدٌ وَهُوَ وَاحِدٌ؟ وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر ”آپ ﷺ نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔“
(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ دراوردی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ ﷺ نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔
(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں، کیونکہ وہ پوری جماعت ہے اور یہ اکیلا ہے۔