السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 345
فَأَمَّا حَدِيثُ وَرْقَاءَ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا وَرْقَاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَضْمَضَ مَرَّةً، وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَقَدْ ذَكَرْنَا الرِّوَايَاتِ فِي مَا مَضَى إِلَّا رِوَايَةَ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهِيَ فِيمَا.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، ایک مرتبہ اپنے بازوؤں کو دھویا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا: یہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ہے۔