السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 344
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عَجْلَانَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدٌ الْحَافِظُ، نا أَبُو اللَّيْثِ نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْفَرَائِضِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: " ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً، فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ".حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ہے، فرماتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے ایک چلو لیا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر چلو لیا اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔