السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 343
أَمَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، أنا الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي يَتَوَضَّأُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا۔۔۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا، پھر اپنے بائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، پھر فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) ابوسلمہ خزاعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: ”میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“