السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 342
وَالَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَاسْتَنْشَقَ وَمَضْمَضَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَصَبَّ عَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى قَدْمَيْهِ وَهُوَ مُتَنَعِّلٌ ". فَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ. وَقَدْ خَالَفَهُمَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ کلی کی، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھوں پر دو مرتبہ پانی ڈالا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے قدموں پر چھینٹے دیے اور آپ ﷺ جوتی پہنے ہوئے تھے۔